کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پہلی وویمن لائبریری نے کام شروع کردیا ہے جس میں مقابلے کے امتحان میں حصہ لینے والی بچیوں کی ایک بڑی تعداد پڑ رہی
ہیں
ان بچیوں نے خواتین لائبریری کو انکے لیے کسی نعمت کر برابر قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس طرح کی لائبریریوں کا قیام ملک کے دیگر علاقوں میں بھی لایاجاے
کوئٹہ کے جناح ٹاون ایک غیرسرکاری تنظیم شہید بازمحمد فاونڈیشن کے زیراہتمام خواتین پبلک لائبریری نے کام شروع کردیا
جس میں بیک وقت سو طالبات دخواتین کی پڑنے کی گجائش موجود ہے
لائبریری میں مقابلے کی امتحان کے لیے ژوب سے تعلق رکھننے والے ایک طالبہ نسیمہ بی بی کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں خواتین لائبریری کا قیام ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں انہوں نے
کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اس طرح کے سہولیات خواتین کو میسر نہیں ہیں
ایک اور طالبہ کائنات بی بی کا کہنا تھا کہ لائبریری کی وجہ خواتین کو مختلف مظامین میں تیاری کرنے کے مواقع میسرآتے ہیں
شہدا 8 اگست نے نام سے منسوب لائبریری کے منتظمین کے مطابق اب تک درجنوں افراد اس لائبریری کے توسط سے مقابلے کے امتحانات نہ صرف پاس کرچکے ہیں بلکہ بغیر کسی سفارش
کے اعلی پوسٹوں پر بھی تعینات ہوچکے ہیں
لائبریری کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر لعل کاکڑ نے بتایا کہ اس وقت مختلف برانچز میں 4 ہزار سے زاہد طلبہ وطالبات ان رول ہے
دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہیدا 8 اگست لائبریری کے لیے اسمگلی سڑک پر نئی زمین اور عمارت بناکر دینے کا اعلان کیا ہے
یاد رہے کہ سال 2016 میں 8 اگست کو سول ہسپتال کوئٹہ میں ایک خودکش حملے میں 70 سے زاہد افراد جان بحق ہوے تھے جس میں دو صحافی اور نامور قانون دان بازمحمد ایڈوکیٹ سمیت
56 وکلاء بھی جان کی بازی ہارگئے تھے
جس پرنہ صرف شہید بازمحمد فاونڈیشن بلکہ اس فاونڈیشن کے تحت سال 2019 میں شہیدا8 اگست پبلک ڈیجیٹل لائبریری کا داغ بیل ڈالاگیا اور اب تک 9 ہزار سے زیادہ خواتین وحضرات اس
کے سوالہ برانچوں سے مستفید ہوچکے ہیں