کوئٹہ (نمائندہ خصوصی)بلوچستان میں نئے مالی سال 2025-2026 کا آغاز ترقیاتی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کے فنڈز کے اجرا کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ فنڈز صوبے بھر میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر بروقت کام شروع کرنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ”یہ فنڈز تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے۔”
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی معاشی ترقی میں بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔
ترجیحی شعبے
ذرائع کے مطابق، حکومت نے جن شعبوں کو اس ترقیاتی بجٹ میں ترجیح دی ہے، ان میں شامل ہیں:
تعلیم: اسکولوں کی بہتری، نئے تعلیمی اداروں کا قیام
صحت: بنیادی مراکز صحت، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، ادویات کی فراہمی
بنیادی ڈھانچہ: سڑکوں، پلوں اور پانی کی اسکیموں کی تعمیر
پسماندہ علاقے: خصوصاً جنوبی بلوچستان اور قبائلی اضلاع کی ترقی پر زور
حکومتی مؤقف
صوبائی حکومت کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:
“یہ ترقیاتی فنڈز بلوچستان کے عوام کے لیے امید کی نئی کرن ہیں۔ ہم شفاف طریقے سے منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے تاکہ عام شہری کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔”
اپوزیشن کا ردعمل
دوسری جانب بعض اپوزیشن رہنماؤں نے فنڈز کے اجرا کے شفاف طریقے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کی نگرانی کے لیے ایک آزاد کمیٹی قائم کی جائے
تاکہ بدعنوانی اور سیاسی اقربا پروری سے بچا جا سکے۔
پس منظر
واضح رہے کہ رواں سال بلوچستان حکومت نے کل بجٹ کا حجم 1020 ارب روپے رکھا ہے، جس میں ترقیاتی کاموں کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔