اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں ایک جامع امن
تجویز تیار کر لی گئی ہے، جو گزشتہ رات دونوں ممالک کے حکام کو منتقل کر دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے ابتدائی فریم ورک پر آج ہی اتفاق ہونا ضروری ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران یہ عہد کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا،
جس کے عوض عالمی برادری ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرے گی اور اس کے منجمد اثاثے بھی بحال کر دیے جائیں گے۔ مزید برآں، اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے
ایک علاقائی فریم ورک بھی طے پائے گا۔
اس سفارتی کوشش کی سب سے اہم کڑی یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو مرکز چنا گیا ہے، جہاں براہِ راست بات چیت متوقع ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادار ے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کو پاکستان کی تجویز موصول ہو گئی ہے اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تاہم، ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران کسی بھی قسم کی ڈیڈ لائن کو قبول کرنے کے لیے دباؤ میں نہیں آئے گا۔