کوئٹہ (خبردار نیوز)بلوچستان اسمبلی کی عمارت کو گرانے کے خلاف آئینی پٹیشن کی سماعت کے لیے چار مئی کی تاریخ مقررکر دی گئی
یہ آئینی پٹیشن سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی۔
حکومت کی جانب سے گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی کی عمارت کو گرانے کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا تھا۔
ٹینڈر کھولنے کے لیے 7مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ٹینڈر کے اجرا کے بعد امان کنرانی ایڈووکیٹ نے آئینی پٹیشن کی جلدسماعت کے لیے نئی درخواست دائر کی ۔
چیف جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے درخواست کی سماعت کی ،
سپریم کورٹ کے وکیل امان کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ
عدالت نے آئینی پٹیشن کی سماعت کے لیے چار مئی کی تاریخ مقرر کی ہے کیونکہ فریقین نے اس سلسلے میں پہلے ہی جواب جمع کیئے ہوئے ہیں ،
امان کنرانی ایڈووکیٹ کے مطابق اسمبلی کی پرانی عمارت کو گرانے کا اقدام غیر آئینی ہے ،
جس کے باعث ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو اسمبلی کی عمارت کو گرانے سے روکا جائے ، کیونکہ حکومت اسمبلی کی موجودہ عمارت کو گراکر پانچ ارب روپے کی لاگت سے نئی عمارت تعمیر کرانا چاہتی ہے ۔
یاد رہے کہ نئی عمارت کی تعمیر کے لیے پانچ ارب روپے وفاقی حکومت نے فراہم کی ہے ،