اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور وزیراعظم و فیلڈ مارشل کی کاوشوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 47 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا ہے۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان بطور ثالث عالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے ہی دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ بندی ممکن ہوئی ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم محض وقتی حل نہیں بلکہ ان مسائل کا مستقل اور پائیدار حل چاہتے ہیں اور پاکستان پرامید ہے کہ سفارت کاری کے اس عمل سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے پاکستان کے دیرینہ موقف کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام (دو ریاستی حل) کا خواہاں ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ امریکہ اور ایران نے بات چیت کے لیے پاکستان کی سرزمین کا انتخاب کیا۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ تمام عالمی و علاقائی مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے،
اور ہم پرامید ہیں کہ اسلام آباد میں ہونے والی اس پیش رفت سے خطے میں استحکام آئے گا۔