سول ہسپتال میں سیکیورٹی کا فقدان، خواتین ڈاکٹرز خوفزدہ؛ سیکریٹری صحت اور ایم ایس کی برطرفی کا مطالبہ

کوئٹہ (بیورو رپورٹ): ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) بلوچستان کے عہدیداروں نے کوئٹہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سول ہسپتال میں سیکیورٹی کے ناگفتہ بہ حالات اور ڈاکٹرز کو درپیش مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پلوشہ نے انکشاف کیا کہ سول ہسپتال میں حالیہ تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی ڈاکٹر ماہ نور ان کی قریبی دوست ہیں، اور اس سفاکانہ واقعے کے بعد ہسپتال میں تعینات تمام خواتین ڈاکٹرز شدید خوف اور گہرے ذہنی اثرات کا شکار ہیں۔
ڈاکٹر پلوشہ کا کہنا تھا کہ سول ہسپتال کوئٹہ میں سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث اب ڈاکٹرز کے لیے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا:
“ہسپتال میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد ڈاکٹرز کو بھی بے حد مشکلات کا سامنا ہے، اور یہاں تربیت (Training) کے دوران ہمیں ایک شدید ٹارچر اور ذہنی اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے بجائے ایک جنگ لڑ رہے ہیں۔”

سیکریٹری صحت اور ایم ایس کی برطرفی کا مطالبہ
YDA عہدیداروں نے صوبائی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ سیکریٹری صحت اور ایم ایس سول ہسپتال ہمارے سیکیورٹی مسائل حل کریں گے، لیکن ایسا کرنے کے بجائے حق کی آواز بلند کرنے پر ڈاکٹرز کو جبری طور پر برطرف کیا جا رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیکریٹری صحت بلوچستان اور ایم ایس سول ہسپتال کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کیا جائے۔

مریضوں کے لیے متبادل فری سروس کا اعلان
ڈاکٹر پلوشہ نے واضح کیا کہ ہسپتال میں نامساعد حالات اور احتجاج کے باوجود وہ مریضوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے مریضوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پرائیویٹ کلینک میں بالکل مفت (Free) خدمات فراہم کرنے کا اعلان کیا تاکہ غریب عوام علاج سے محروم نہ رہیں۔
ینگ ڈاکٹرز نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ڈاکٹرز کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا اور انتقامی کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل سول ہسپتا ل کوئٹہ میں ایک شخص نے ڈاکٹرمانور ناصر پر تیز ا ب پھنکا تھا جس پر حکومت بلوچستان نے فوری کاراوئی کرتے ہوئے نہ صرف مذکورہ شخص کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا بلکہ لیڈی ڈاکٹر کو سرکار ی خرچ پر علاج معالجہ کے لیے آغاخان ہسپتال کراچی منتقل کردیا گیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں