کوئٹہ ( بیورو رپورٹ): زیارت کے علاقے مانگی فیز 3 میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے خلاف لواحقین اور مقتولین کے اہلخانہ کا احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔
مظاہرین نے کوئٹہ کے مصروف ترین علاقے کوئلہ پھاٹک پر 7 شہداء کی لاشیں رکھ کر روڈ بلاک کر رکھا ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔
یاد رہے کہ مانگی فیز 3 میں مسلح افراد کے ایک ہولناک حملے میں 30 پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد صوبے بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
مذاکرات کا دوسرا دور اور حکومتی پیشرفت
دھرنے کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کو حل کرنے کے لیے دھرنا کمیٹی اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ مذاکرات کے دوران حکومتی کمیٹی نے مظاہرین کو مطمئن کرنے کے لیے سانحہ زیارت کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے۔
تاہم، دھرنا کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ صرف یقین دہانیوں پر احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک عملی اقدامات نظر نہ آئیں۔
لواحقین کے بنیادی مطالبات
مظاہرین اور لواحقین کی جانب سے حکومت کے سامنے درج ذیل اہم مطالبات رکھے گئے ہیں:
دہشت گردوں کے خلاف موثر آپریشن: زیارت اور مضافاتی علاقوں میں روپوش دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے فوری اور نتیجہ خیز سیکیورٹی آپریشن شروع کیا جائے۔
لیویز فورس کی بحالی اور جدید تربیت: علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے لیویز فورس کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور اہلکاروں کو جدید ترین اسلحہ اور پیشہ ورانہ ٹریننگ فراہم کی جائے تاکہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکیں۔
شہداء کی تدفین مطالبات کی منظوری سے مشروط
لواحقین اور دھرنا کمیٹی نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے ان کے تمام مطالبات کو تسلیم کر کے ان پر عمل درآمد کا آغاز نہیں کیا جاتا، وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے اور نہ ہی شہداء کی تدفین کی جائے گی۔
کوئلہ پھاٹک پر دھرنے میں سیاسی و سماجی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مسلسل پہنچ رہی ہے۔

Leave a Reply