بلوچستان اسمبلی اجلاس: صوبائی وزیر صادق عمرانی کے نامناسب الفاظ پر مشترکہ مذمتی قرارداد منظور،

کوئٹہ ( خبردار نیوز) بلوچستان اسمبلی کے جاری اجلاس میں صوبائی وزیر صادق عمرانی کی جانب سے گزشتہ اجلاس میں دیے گئے متنازعہ بیان اور نامناسب الفاظ کے استعمال کے خلاف ایک مشترکہ مذمتی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔ قرارداد صوبائی وزیر علی مدد جتک نے ایوان میں پیش کی۔
اراکین کا شدید اظہارِ برہمی اور مؤقف:
قرارداد پر بحث کرتے ہوئے اراکین اسمبلی نے صادق عمرانی کے بیان کو گمراہ کن اور عوام کی دل آزاری کا باعث قرار دیا۔
علی مدد جتک نے کہا کہ صادق عمرانی کا یہ مؤقف غلط ہے کہ اسلام آباد بلا کر 235 افراد کو بے عزت کیا گیا، بلکہ بلوچستان کے اس وفد کو وہاں بہت عزت دی گئی تھی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ پارٹی کے بنائے گئے پارلیمانی لیڈر کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
ضیاء لانگو نے کہا کہ اسلام آباد جانے والے وفد کے بارے میں بے بنیاد اور گمراہ کن باتیں کی گئیں، ائیرپورٹ پر استقبال اور فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کے بعد اعلیٰ سطح پر باعزت طریقے سے تمام باتیں سنی گئیں۔
اسفندیار کاکڑ اور بخت محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ صادق عمرانی نے سنی سنائی باتوں پر عمل کرتے ہوئے غلط بیانی سے کام لیا، جس سے پورے صوبے اور پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی۔ بخت محمد کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں۔
فرح عظیم شاہ نے کہا کہ یہ قرارداد کسی مخصوص گروہ کی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے باعزت عوام کی نمائندگی کرتی ہے، اور صوبے کا اصل مسئلہ اس طرح کے نفرت انگیز بیانیے ہیں۔
نور محمد دمڑ نے بھی قرارداد کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم ورکشاپ میں بلوچستان کے تمام اضلاع کی نمائندگی تھی جس سے صوبے کی عزت افزائی ہوئی۔
صادق عمرانی کا دفاع اور مؤقف:
بحث کے دوران صوبائی وزیر صادق عمرانی نے اپنے دفاع میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صوبے میں امن و امان کے لیے قربانیاں دی ہیں اور وہ خود بھی دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی حلفاً کہیں کہ انہوں نے بلوچستان کے لوگوں کے بارے میں کوئی نامناسب الفاظ کہے ہوں، اور اگر یہ ثابت ہو جائے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے بیان پر اب بھی قائم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں