کوئٹہ ( خبردار رپورٹ ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور معاونِ خصوصی برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے کوئٹہ کے نجی ہسپتال کا دورہ کیا اور نوشکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی طالبات کی عیادت کی۔
حکومتی رہنماؤں نے طالبات اور ان کے لواحقین سے ملاقات کر کے خیریت دریافت کی اور انہیں حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی۔
طالبات کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی
ہسپتال میں عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ نوشکی گرلز ڈگری کالج کی زخمی طالبات کو ہسپتال میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ زخمی طالبات کے علاج معالجے کے تمام اخراجات صوبائی حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ علاج میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ آئے۔
طالبات کی جرأت کو خراجِ تحسین
صوبائی وزیر صحت نے اس مشکل وقت میں طالبات کی شجاعت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ”زخمی طالبات نے انتہائی مشکل حالات میں جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر دشمن ہمارے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتا۔”
دشمن عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کا عزم
معاونِ خصوصی برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوشکی گرلز ڈگری کالج میں ہونے والے اس حملے میں “فتنۃ الہندوستان” کے سہولت کار اور عناصر ملوث ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ بزدلانہ عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
انکے مطابق حکومت بلوچستان صوبے میں امن و امان کی بحالی اور تعلیم دشمن عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں زخمی طالبات اور ان کے اہل خانہ کی مکمل سرپرستی کی جائے گی۔
صوبائی رہنماؤں کے اس دورے کا مقصد متاثرہ طالبات اور ان کے خاندانوں کو ڈھارس بندھانا اور یہ پیغام دینا تھا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔