ژوب: بلوچستان میں بندوبست کے عمل پر سوالات، مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مختلف اداروں سے رجوع
ژوب: بلوچستان میں تقریباً سات سے آٹھ دہائیوں بعد جاری اراضی بندوبست (سیٹلمنٹ) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، خواتین اور ورثا کے حقوق، سرکاری اراضی اور ریونیو معاملات سے متعلق شکایات سامنے آگئی ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف متعلقہ اداروں کو درخواستیں جمع کرا دی گئی ہیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بندوبست کے دوران سابقہ اراضی ریکارڈ، عدالتی فیصلوں اور قانونی حقوق کو مدنظر نہ رکھے جانے کے خدشات موجود ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بعض معاملات میں قانونی تقاضوں اور متعلقہ حکام کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس سے بااثر افراد کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔
خواتین کے قانونی حقوق اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کا معاملہ
شکایات میں PLD 172 Balochistan 2021 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے متعلقہ فیصلے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے قانونی حصوں کے اندراج سے متعلق ہدایات دی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ بندوبست میں ان احکامات پر عمل درآمد کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔
درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابقہ عدالتی فیصلوں، اعتراضات اور پیش کردہ دستاویزات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ قانونی نوٹس، فریقین کو سماعت کا موقع دینے اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (SMBR) کی ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق امور بھی اٹھائے گئے ہیں۔
محمد ہاشم خان مندوخیل کی جانب سے مختلف اداروں کو درخواستیں
درخواست گزاروں کے مطابق سپریم کورٹ کے وکیل محمد ہاشم خان مندوخیل نے معاملے پر چیف سیکریٹری بلوچستان، نیب بلوچستان، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور کمشنر ژوب سمیت مختلف متعلقہ اداروں سے رجوع کیا ہے۔
شکایات میں سرکاری اراضی کی مبینہ غیر قانونی فروخت، ریونیو اور ٹیکس سے متعلق ممکنہ مالی بے ضابطگیوں، خواتین کے حقوق سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور سرکاری ریکارڈ تک رسائی نہ ملنے کے معاملات شامل ہیں۔ درخواست گزاروں نے بعض افسران کی جانب سے مبینہ طور پر ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اب تک شکایات پر ہونے والی کارروائی کے حوالے سے انہیں واضح پیش رفت نظر نہیں آئی، جس کے باعث اراضی مالکان، خواتین اور ورثا کے حقوق کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔
آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ
درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات غیر جانب دار افسران کے ذریعے کرائی جائیں اور ایسے افراد کو انکوائری کا حصہ نہ بنایا جائے جن کے مفادات مبینہ طور پر سابقہ بندوبست یا اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ ریکارڈ کی مکمل جانچ، ذمہ دار افسران کے کردار کا تعین، خواتین کے قانونی حصوں کے تحفظ اور سرکاری اراضی و ریونیو سے متعلق ممکنہ مالی نقصانات کی تحقیقات پر زور دیا ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی افسر یا متعلقہ شخص کے خلاف الزامات ثابت ہو جائیں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ بندوبست کے عمل میں شفافیت برقرار رہے اور تمام متعلقہ فریقین کے قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
نوٹ: مذکورہ الزامات درخواست گزاروں کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔