قومی زبانوں کی بندش اآٰٰیک سازش ہے- ڈاکٹرمالک بلوچ

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) – نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک کثیر القوم

ریاست ہے، مگر یہاں ہماری زبانوں کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچی، براہوئی اور پشتو زبان کے ڈیپارٹمنٹس بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں،

جسے انہوں نے ایک سنگین سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “براہوئی صرف بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھایا جاتا ہے، مگر اب اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے۔”

ڈاکٹر مالک بلوچ نے سوال اٹھایا کہ اگر تعلیمی شعبے کو خسارے کی بنیاد پر بند کیا جانا ہے تو پھر پورا پاکستان خسارے میں ہے، کیا اسے بھی بند کر دیا جائے؟

انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے ریونیو کے لیے نہیں ہوتے بلکہ قوموں کی شناخت اور ترقی کے لیے ہوتے ہیں۔

سابق وزیراعلی نے مزید کہا کہ جامعات میں فیسوں میں اضافے کے باعث طلباء کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اساتذہ کو کئی کئی ماہ تنخواہیں نہیں ملتیں۔

“مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے لیکن تنخواہیں کم کی جارہی ہیں”،

ڈاکٹرمالک بلوچ نے عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کو پی ایس ڈی پی کا فنڈنگ اختیار نہیں دیا جا سکتا، اس

کے باوجود اربوں روپے ان کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ “سوئیڈن جیسے ممالک میں بلوچی زبان پڑھائی جا رہی ہے جبکہ بلوچستان یونیورسٹی میں اسے بند کیا جا رہا ہے۔”

ڈاکٹر مالک بلوچ نے مطالبہ کیا کہ مادری زبانوں کو تحفظ دیا جائے اور تعلیمی اداروں میں ان کی تدریس بحال کی جائے، کیونکہ یہ قوموں کی شناخت اور بقا سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں