بلوچستان :طلبہ کی انوکھی ایجاد، سائنس لیب سے گاڑی تک

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان کے طلبہ کی انوکھی ایجاد، سائنس لیب کو کمرے سے گاڑی میں لے ائے ہیں ،

بلوچستان میں سائنس کی تعلیم کو جدید اور عملی بنیادوں پر فروغ دینے کے لیے یونیسیف اور یورپی یونین کے تعاون سے قائم کردہ “سائنس کی سواری” (موبائل

سائنس لیب) تیار کر لی گئی۔

کوئٹہ کے نجی سکول بیکن ہاؤس کے طلباء و طالبات کی کاوشوں سے سائنس گاڑی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا۔

نومبر 2024 سے مئی 2025 تک کی مدت میں اہم سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔

اس منفرد منصوبے نے صوبے کے درجنوں سیلاب سے متاثرہ اور سائنس لیب سے محروم اسکولوں میں سائنس کی عملی تعلیم کو براہ راست طلبہ تک پہنچایا، خاص

طور پر اُن علاقوں میں جہاں سائنس لیب یا تربیت یافتہ اساتذہ دستیاب نہیں تھے۔

سائنس کی سواری ایک موبائل سائنس لیبارٹری ہے جس کا مقصد دیہی اور پسماندہ علاقوں کے سرکاری اسکولوں، نجی اداروں، مدارس، کمیونٹی لرننگ سینٹرز اور

ایکسلریٹڈ لرننگ سینٹرز تک سائنس کے بنیادی آلات اور تجربات فراہم کرنا ہے۔

اس کے ذریعے طلبہ کو سائنس کی عملی تفہیم، تخلیقی سوچ اور جدید سائنسی آلات کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے،

تاکہ سائنس کی تعلیم دلچسپ، جامع اور بامعنی بن سکے۔

سائنس گاڑی سے ابتک 4341 طلبہ مستفید ہوچکے ہیں جن میں 1,057 لڑکیاں اور 3,284 لڑکے شامل ہیں

جبکہ مجموعی طور پر سائنس گاڑی 54 سکولوں تک مرحلہ وار پہنچ چکی ہے۔

سائنس گاڑی میں pH پیپر سے تیزابیت اور الکلی کی جانچ پڑتال کا عمل سکھایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اس کی میں انسانی جسم کا ماڈل،آکسیلیک ایسڈ اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کی ٹائٹریشن، پوٹاشیم پرمینگینیٹ کے ساتھ آکسیڈیشن ریڈکشن، سکرو گیج اور

ورنیر کیلپر کا استعمال، سیل ڈویژن، مینڈک کی ایناٹومی اور میٹامورفوسس ماڈلز بھی موجود ہیں۔

یہ منصوبہ یونیسیف اور یورپی یونین کے اشتراک سے شروع کیا گیا، جس نے نہ صرف گاڑی کی تیاری اور آلات کی فراہمی کو ممکن بنایا بلکہ عملے کی تربیت

اور تعلیمی مواد کی تیاری میں بھی معاونت فراہم کی۔

اس شراکت داری کا مقصد بلوچستان میں تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنا اور پسماندہ طبقات تک معیاری سائنس تعلیم کی رسائی کو یقینی بنان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں