کوئٹہ ( خبردار نیوز ) کوئٹہ سمیت صوبے کے زیادتر علاقوں میں عام تعطیلات کے بعد تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوتے ہی مارکیٹوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم اسٹیشنری کی دکانوں پر خریداروں کی بڑی تعداد موجود ہے جہاں والدین بچوں کے لیے ضروری تعلیمی سامان خریدنے میں مصروف دکھائی دے رہے
ہیں۔
سالانہ تعطیلات ختم ہوتے ہی کوئٹہ کے تعلیمی اداروں میں رونقیں بحال ہو گئیں، لیکن اس کے ساتھ ہی کتابوں، کاپیوں، بیگز اور دیگر اسٹیشنری اشیاء کی مانگ میں بھی واضح اضافہ ہو گیا
ہے۔
دکانداروں کے مطابق نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی خریداری میں تیزی آتی ہے، تاہم اس بار قیمتوں میں نمایاں اضافے نے خریداروں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔
مارکیٹ میں موجود والدین کا کہنا ہے کہ اسٹیشنری اشیاء کی قیمتیں پہلے کی نسبت کافی بڑھ چکی ہیں۔ نصابی کتابیں اور کاپیاں مہنگی ہونے سے جہاں ایک طرف بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی
ہے، وہیں دوسری جانب گھریلو بجٹ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
والدین کے مطابق پہلے جو کاپی 100 روپے کی ملتی تھی اب وہ 180 سے 200 تک پہنچ گئی ہے۔ تین چار بچوں کی کتابیں اور اسٹیشنری لینا اب عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔”
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے پیچھے وہ نہیں بلکہ ہول سیل مارکیٹ اور پیپر کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور کاغذ مہنگا ہونے کی وجہ سے ہم مجبور ہیں کہ نئی قیمتوں پر مال بیچیں۔”
ادھر شہری حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کی کڑی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ منافع خوروں پر لگام ڈالی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال
برقرار رہی تو والدین کے لیے بچوں کو پڑھانا ایک خواب بن جائے گا۔