پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یروشلم کے مقدس مقامات کی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا گیا ہے، اور واضح کیا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورا احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے۔ بیان میں اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور نئی منظوریوں پر بھی تنقید کی گئی، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد، بچوں اور تعلیمی اداروں پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی خودمختاری کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کی بے دخلی اور الحاق کی ہر کوشش کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت دہراتے ہوئے 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تائید کی۔