یونیورسٹی کی رینکنگ کا 37 سے بڑھ کر 85.5 ہونا ایک بڑی تعلیمی کامیابی

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح تعلیم کا فروغ ہے اور اب ہم یہ سننا نہیں چاہتے کہ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نےایس بی کے میں لپ ٹاپ تقسیم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔​راحیلہ درانی نے صوبے میں ہونے والی تعلیمی پیش رفت کے حوالے سے اہم اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ:
​بلوچستان میں 3500 سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں۔
​تعلیمی مہم کے دوران 3 لاکھ بچوں کا اسکولوں میں داخلہ ممکن بنایا گیا۔
​شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے 12 ہزار سے زائد اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے
​صوبائی وزیر نے ویمن یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد 14 ہزار تک پہنچنا اور رینکنگ کا 37 سے بڑھ کر 85.5 ہونا ایک تاریخی کامیابی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کی ترقی ہی دراصل پورے معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے۔
​ا​اساتذہ کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہگزشتہ 25 سال سے رکی ہوئی پروموشنز کا مسئلہ سینیٹ کی کوششوں سے حل کر دیا گیا ہے اور اب اساتذہ کو طویل انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
​جامعات کے مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ وائس چانسلرز کونسل قائم کی گئی ہے۔
​اساتذہ کے لیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
​راحیلہ درانی نے بتایا کہ گزشتہ 20 سالوں سے جامعات کی عمارتیں مرمت کی منتظر تھیں، تاہم اب ایک ماسٹر پلان کے تحت تمام جامعات کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے طلبہ سے کیا گیا لیپ ٹاپ کی فراہمی کا وعدہ پورا کر دیا ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق تمام نوکریاں صرف میرٹ پر دی جا رہی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں