امیرِ جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی

حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے فنانس ایکٹ 2025 کو بھی چیلنج کر دیا۔

امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں نافذ پیٹرولیم لیوی اور نئی کلائمیٹ سپورٹ لیوی آئین، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام اور بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب صرف ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی بلکہ اسے ایک بڑے ریونیو ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کا نفاذ پارلیمنٹ کے بجائے ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے تحت کیا جا رہا ہے۔

درخواست کے مطابق پیٹرول پر عائد لیوی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور یہ بنیادی قیمت کا تقریباً 42 سے 43 فیصد بنتی ہے۔ مزید مؤقف اپنایا گیا کہ مختلف اضافی ٹیکسز کے باعث عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔

درخواست میں فنانس ایکٹ 2025 پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ اس قانون کے ذریعے پیٹرولیم لیوی پر موجود قانونی حد ختم کر دی گئی اور حکومت کو غیر محدود مالی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

درخواست گزار نے کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو بھی غیر شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نفاذ میں پارلیمانی نگرانی اور واضح فنڈ مینجمنٹ کا فقدان ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، ایگزیکٹو کے غیر محدود اختیارات ختم کیے جائیں اور حکومت کو وصولیوں اور ان کے استعمال کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں