کوئٹہ (خصوصی رپورٹ): زیارت مانگی فیز 3 حملے کے خلاف کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر لاشوں کے ہمراہ جاری لواحقین کا دھرنا چوتھے روز بھی برقرار رہا، تاہم رات گئے حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد برف پگھلنے لگی ہے
اور اہم ابتدائی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے سانحہ زیارت کی شفاف تحقیقات کے لیے باقاعدہ جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔
اس اہم ترین حکومتی وفد کی قیادت صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کر رہے تھے، جبکہ وفد کے دیگر ارکان میں سینیٹر منظور احمد کاکڑ، بلال کاکڑ، اور کمشنر کوئٹہ سمیت اعلیٰ حکام شامل تھے۔
دوسری جانب دھرنا شرکاء اور آل پارٹیز کی نمائندگی رحیم زیارتوال، نصراللہ زیرے، اصغر خان اچکزئی، آغا حسن، ڈاکٹر اسحاق، عبدالمتین اخونزادہ اور دلاور خان جیسے اہم سیاسی و قبائلی رہنما کر رہے تھے۔
حکومتی وفد کا موقف اور یقین دہانیاں
مذاکرات کے دوران صوبائی وزراء کا کہنا تھا کہ دھرنا شرکاء اور شہداء کے لواحقین کے پاس خود چل کر آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اس سانحے پر انتہائی سنجیدہ ہے۔
وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ حکومت ہر مسئلے کا حل گولی کے بجائے بات چیت اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتی ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ آپریشنز جاری ہیں۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے دھرنا کمیٹی کو یقین دلایا کہ ان کی یہ کمیٹی مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کی جانب سے مکمل طور پر بااختیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے میں امن و امان کی مستقل بحالی کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
حکومتی وفد نے واضح کیا کہ آل پارٹیز اور لواحقین کی جانب سے پیش کیے گئے دیگر تمام آئینی و قانونی مطالبات پر بھی عملدرآمد کے لیے حکومت مکمل طور پر تیار ہے۔
لواحقین اور آل پارٹیز کا موقف
اگرچہ مذاکرات میں جوڈیشل کمیشن کی یقین دہانی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم لواحقین اور آل پارٹیز کا موقف ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر فوری اور عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ لواحقین کے بنیادی مطالبات میں شامل ہیں:
دہشت گردوں کا خاتمہ: زیارت اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں روپوش دہشت گردوں کے مکمل صفائے کے لیے ایک جامع اور موثر گرینڈ سیکیورٹی آپریشن شروع کیا جائے۔
لیویز کی بحالی اور جدید ٹریننگ: علاقے کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے لیویز فورس کو فی الفور بحال کیا جائے اور جوانوں کو جدید ترین اسلحہ اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کر سکیں۔
دھرنا کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینے کے بعد ہی شہداء کی تدفین اور دھرنا ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ مانگی فیز 3 میں ہونے والے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں 30 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے تھے، جس کے خلاف لواحقین 7 لاشوں کے ہمراہ چار روز سے کوئلہ پھاٹک پر سراپا احتجاج ہیں۔

Leave a Reply