کوئٹہ (خبردار نیوز)کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس کا بھیانک دھماکہ، حادثے کے نتیجے میں اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں
جبکہ دیگر پھنسے ہوئے محنت کشوں کو نکالنے کے لیے پی ڈی ایم اے اور ریسکیو ٹیموں کا مشترکہ آپریشن بدستور جاری ہے۔
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق دھماکہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث ہوا جس سے اندر کام کرنے والے کان کن محصور ہو گئے۔
ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری اور امدادی سامان کے ساتھ موقع پر موجود ہیں اور کان کے اندر پھنسے افراد تک پہنچنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔
واقعے کی سنجیدگی کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ حادثے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے تا کہ حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اگر انکوائری میں کسی بھی سطح پر لاپرواہی یا ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔”
وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے بھر کی تمام کوئلہ کانوں میں کان کنوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی ضوابط (Safety Protocols) پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔