کوئٹہ (خبردار رپورٹ)
بلوچستان اسمبلی کے اہم اجلاس کے دوران امن و امان کی صورتحال اور مستونگ کے باغات کی کٹائی سے متعلق بیان پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کھل کر بحث ہوئی۔
اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے ایوان میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے حالیہ بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان سے باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ کے باغات کاٹنے سے متعلق جو بیان دیا تھا، اس سے متعلقہ علاقوں کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے،
لہٰذا وزیراعلیٰ ایوان کو اس بیان کی حقیقت اور پس منظر سے آ گاہ کریں۔
اپوزیشن کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وضاحت کی کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ باغات کی آڑ لے کر دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
ایسا ممکن ہی نہیں کہ کسی باغ میں دہشت گرد چھپے ہوں اور اس کے مالک کو خبر نہ ہو۔
اگر کسی کی نجی پراپرٹی میں دہشت گرد پناہ لیے ہوئے ہیں اور مالک ریاست کو اطلاع نہیں دیتا تو قانون کے مطابق اسے دہشت گردوں کا سہولت کار ہی سمجھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاستی ردعمل: اگر کسی کی ذاتی پراپرٹی سے فورسز پر فائرنگ ہوگی تو ردعمل دینا ریاست کا بنیادی حق اور فرض ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے متعلق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں نے ہمارے لوگوں کو بے دردی سے شہید کیا ہے۔
جن اہلکاروں کو شہید کیا جا رہا ہے، ان کے خاندانوں پر کیا گزرتی ہے، اس کا احساس سب کو ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سول اور ملٹری بیلنس کی شدید ضرورت ہے، اس وقت سیکیورٹی فورسز گرے ایریا میں آ پریشن کر رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہاں سیکیورٹی آپریشنز کے دوران پورے اضلاع خالی کروائے گئے،
لیکن حکومت بلوچستان نے شہریوں کی سہولت کے پیش نظر اب تک ایک گاؤں بھی خالی نہیں کروایا۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے تمام شہریوں پر زور دیا کہ قانون کے تحت ہر فرد کا ریاست کے ساتھ وفادار ہونا لازمی ہے،
لہٰذا نجی پراپرٹیز میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی پر فوری طور پر ریاست کو اطلاع دی جائے۔