جیصنعاء / تہران (خبر ایجنسی)عرب میڈیا کے مطابق یمن کی تنظیم انصار اللہ (حوثی) نے بحیرہ احمر کے اسٹریٹیجک جزیرے میون پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس اہم جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثیوں نے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ باب المندب پر اپنا مکمل تصرف قائم کر لیا ہے۔
انصار اللہ کے ترجمان کے مطابق یمنی فورسز کو 5,400 مربع کلومیٹر کے علاقے سے پسپا کر دیا گیا ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق، اس پیش قدمی کے دوران حوثیوں نے یمنی فورسز کے استعمال میں رہنے والے امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک اور لاکھوں ڈالر مالیت کا دیگر جدید فوجی سامان بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
دوسری جانب خطے کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایران کے صدر نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کوئی حالتِ جنگ نہیں ہے
اور حوثیوں کے اقدامات ان کے اپنے داخلی مسائل کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ علاقائی ممالک کے درمیان کسی تنازع کی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے اور خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
اسی اثنا میں آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے کے قریب ایک ایرانی کمرشل جہاز پر میزائل حملے کی اطلاع ملی ہے،
جس میں ایک شخص جاں بحق اور تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے 7 سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران نے یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ عمان کے ساتھ طے پانے والے حالیہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو فی الحال نہیں کھولا جائے گا۔