بینکاک (خبردار ڈیسک)تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیر اعظم کے خلاف برطرفی کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے انہیں عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق، وزیر اعظم اب عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک اپنے سرکاری فرائض انجام نہیں دے سکیں گی۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، عدالت نے قرار دیا کہ جب تک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، وزیر اعظم کو آئینی طور پر اپنے اختیارات سے دستبردار ہونا ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد تھائی لینڈ
کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔
مقدمے کی تفصیلات
آئینی عدالت میں دائر کردہ درخواست میں وزیر اعظم پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور آئین کے کچھ دفعات کی خلاف ورزی کی۔
عدالت نے ان الزامات کو قابلِ سماعت قرار دیا اور ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے فوری طور پر معطلی کا فیصلہ سنا دیا۔
عبوری سیاسی انتظام
عدالت کے فیصلے کے بعد یہ امکان ہے کہ وزیر اعظم کی قریبی اتحادی یا کابینہ کے سینئر رکن کو عبوری طور پر حکومت کے معاملات سونپے جائیں گے۔
تاہم، حکومت کی جانب سے تاحال اس حوالے سے سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
بین الاقوامی ردِعمل
تھائی لینڈ کے اس سیاسی بحران پر خطے کے ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی گہری نظر ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ملک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی غیر یقینی کو
مزید بڑھا سکتی ہے۔