کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان کے سرحدی شہر چمن کے قریب پاک افغان سرحد پر گزشتہ رات افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ سے کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد، حکام نے ضلع چمن میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں اور پولیو کے خلاف جاری مہم کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ افغان جانب پر ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں تاحال کوئی تصدیق شدہ اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان کی جانب سے اس واقعے پر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر حملہ کیا گیا جس کے جواب میں کی گئی کارروائی میں 15 سے 20 طالبان مارے گئے۔ بیان کے مطابق، افغان طالبان نے سرحدی دروازے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
افغانستان کی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
چمن کے ڈپٹی کمشنر حبیب اللہ بنگلزئی نے 15 اکتوبر کو بتایا فائرنگ سے پانچ پاکستانی شہری زخمی ہوئے، جن میں سے دو کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ تاہم بعض غیر سرکاری ذرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق، جھڑپ کے بعد ضلع چمن کے تمام اسکول اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، جس کے باعث آج طلبا اسکول نہیں جا سکے۔ اسی طرح، پولیو کے خلاف مہم بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔
اگرچہ صبح کے وقت سے فائرنگ میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن چمن کے حکام نے بارڈر کے قریب موجود افغان مہاجرین کو وہاں سے ہٹا کر “ماسٹر پلان” کے تحت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ یہ وہ افغان شہری ہیں جو پاکستان حکومت کی ہدایت پر واپسی کے منتظر تھے۔
چمن کے مقامی افراد کے مطابق، جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہر قسم کی تجارت اور آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اب بھی علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہے اور وقتاً فوقتاً گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب ضلع قلعہ عبداللہ میں بھی حکام نے چمن جانے والی مرکزی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہے، جبکہ کوئٹہ سے چمن جانے والی ٹرین سروس “چمن پسنجر” کو بھی رو ک دیا گیا ہے، جس کے باعث مسافروں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اسلام آباد میں پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے چمن بارڈر پر مختلف اطراف سے حملہ کیا، تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 15 سے 20 افغان طالبان مارے گئے ا اور حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ بیان میں پاکستان کی جانب کہا گیا کہ مزید معلومات جلد فراہم کی جائیں گی۔
ایمرجنسی نافذ، تمام طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ
بلوچستان کے ضلع چمن میں صحت کے حکام نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے اور تمام طبی عملے کو فوری طور پر ہسپتالوں میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ضلعی محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر نوید احمد بادینی کی جانب سے 15 اکتوبر کو جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے حکم پر تمام طبی ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور جو عملہ غیر حاضر رہا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔