پاکستان کی کامیابی، امریکہ ایران 2 ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامند

واشنگٹن / تہران / اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک حیران کن اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جمہوریہ ایران دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، یہ اہم پیش رفت پاکستانی قیادت اور دفترِ خارجہ کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے جاری خاموش مگر فعال سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔

پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطوں کے لیے پل کا کردار ادا کیا، جس کا مقصد خطے کو ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچانا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، اس دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا،

جس کے تحت امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کریں گے۔

علاقے میں موجود دونوں ممالک کی حامی فورسز کو بھی حملے روکنے کی ہدایات جاری کی جائیں گی۔

اس چودہ روزہ مدت کے دوران، دونوں ممالک تناؤ کو مستقل طور پر کم کرنے اور پسِ پردہ مذاکرات کے آغاز کے لیے بات چیت کریں گے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر باقاعدہ بیان ابھی آنا باقی ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ خارجہ نے واشنگٹن اور تہران میں اعلیٰ حکام کے

ساتھ کئی ٹیلیفونک رابطے کیے اور خصوصی پیغامات کا تبادلہ کیا۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں امن و استحکام پوری دنیا، بالخصوص مسلم امہ کے مفاد میں ہے اور جنگ کسی

مسئلے کا حل نہیں ہے۔

اس پیش رفت کو عالمی سطح پر ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے

اور پاکستان کی ثالثی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ یہ جنگ بندی عارضی ہے، لیکن یہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک اہم پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل میں ایک جامع

معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں