اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے گرد گھیرا
تنگ کرنے کے لیے “بحری ناکہ بندی” (Naval Blockade) جیسے انتہائی سخت اقدام کا اشارہ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے درمیان طویل نشستیں ہوئیں، تاہم آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایٹمی پروگرام سے متعلق شرائط پر اتفاق
نہ ہو سکا۔
مذاکرات کی اس تعطل کے فوری بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مضمون شیئر کیا جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے شیئر کردہ مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے امریکا کی پیش کردہ “حتمی شرائط” تسلیم نہ کیں تو واشنگٹن محض پابندیوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ
ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی (Blockade) پر غور کیا جا سکتا ہے۔
امریکی بحریہ اس وقت خطے میں USS Gerald Ford جیسے جدید ترین طیارہ بردار بحری جہازوں کے ساتھ موجود ہے جو کسی بھی وقت سمندری راستوں کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کو مکمل طور پر روکنا ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لچک دکھانے پر مجبور کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اس ناکہ
بندی کے منصوبے پر عمل درآمد کرتا ہے
توعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو سکتا ہے۔خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے امکانات بڑھ جائیں گے۔چین اور بھارت جیسی بڑی
معیشتیں، جو ایرانی تیل یا اس راستے پر انحصار کرتی ہیں، شدید متاثر ہوں گی۔
دوسری جانب تہران نے کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام سفارتی اور دفاعی وسائل بروئے کار لائیں گے اور کسی بھی غیر قانونی دباؤ کے سامنے سر
تسلیم خم نہیں کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ مضمون شیئر کرنا دراصل ایک “نفسیاتی جنگ” کا حصہ بھی ہو سکتا ہے تاکہ ایران کو آخری لمحات میں امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا
سکے۔ تاہم، مذاکرات کی ناکامی کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔