کوئٹہ (نمائندہ خصوصی )بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کا اعلان کر دیا ہے،
جس کا باقاعدہ آغاز کل (پیر) سے ہوگا۔ اس مہم کا مقصد صوبے کے تمام اضلاع میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، اس سات روزہ مہم کے دوران 26 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کو کامیاب بنانے کے
لیے صوبے بھر میں 11 ہزار سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گی۔
مسافروں اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی سہولت کے لیے بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بین الصوبائی شاہراہوں پر 475 ٹرانزٹ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین
سے محروم نہ رہے۔
مہم کے دوران پولیو کے قطروں کے ساتھ ساتھ بچوں کی قوتِ مدافعت میں اضافے کے لیے وٹامن اے کی خوراک بھی دی جائے گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صوبے کے دور دراز اور جغرافیائی طور پر مشکل علاقوں تک رسائی کے لیے تمام لاجسٹک انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ ہر بچے تک پہنچا جا سکے۔
حکام کے مطابق، بلوچستان کے لیے یہ خوش آئند بات ہے کہ رواں سال صوبے میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
ہم، سال 2026 میں اب تک ملک بھر میں پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، جس کا تعلق سندھ کے ضلع سجاول سے ہے۔
اسی تناظر میں بلوچستان میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کو صوبے میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
چیف سیکرٹری بلوچستان نے مہم کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ”والدین پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کو معذوری سے بچانے کے لیے قطرے
ضرور پلوائیں۔ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔”
دوسری جانب، انعام الحق نے اساتذہ، سول سوسائٹی اور مذہبی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ معاشرے میں آگاہی پھیلانے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو
پولیو سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔