کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے تصدیق کی ہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے حراست میں لی گئی لڑکی کے خلاف
دہشت گردوں کی معاونت اور سہولت کاری کے واضح شواہد ملے ہیں۔
بابر یوسفزئی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مذکورہ لڑکی کی گرفتاری محض کسی شبہ پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان نے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے گزشتہ روز حراست کے باقاعدہ احکامات جاری کیے۔اور ملزمہ کو قوانین کے مطابق ‘انٹرنمنٹ و ڈٹینشن سینٹر’ میں
منتقل کر دیا گیا ہے جہاں تفتیش کا عمل جاری ہے۔
معاون داخلہ نے بتایا کہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کے اہل خانہ کو حراست سے متعلق مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام کارروائی قانون اور طے
شدہ ایس او پیز (SOPs) کے مطابق کی گئی ہے اور اس پورے معاملے کو مکملa طور پر قانونی دائرہ کار میں ہینڈل کیا جا رہا ہے۔
بابر یوسفزئی نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ اس حساس معاملے پر غیر مصدقہ اور من گھڑت اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے
والے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

Leave a Reply