واشنگٹن (نیوز ڈیسک) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور مفاہمت آمیز بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ یا محاذ آرائی کا بہت جلد خاتمہ ہونے والا ہے۔
انہوں نے تہران کو براہِ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے سفارتی دروازے کھولنے کا اشارہ دے دیا ہے۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت مشکل صورتحال میں ہے اور وہ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے واضح انداز میں کہا، “اگر ایران بات کرنا چاہتا ہے تو ہمیں فون کر سکتا ہے، ہم ایران سے مذاکرات ٹیلی فون پر کریں گے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے طویل و عریض ملاقاتوں کے بجائے براہِ راست رابطہ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
مذاکراتی عمل اور ایرانی حکام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مخصوص رائے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے موجودہ مذاکراتی پینل میں تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان کے بقول، “ایران کے مذاکرات کاروں میں کچھ لوگ بہت مناسب اور سمجھدار ہیں، جبکہ کچھ لوگ بالکل بھی مناسب نہیں ہیں۔”
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ جنگ کے خاتمے سے متعلق ان کا پُر امید بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پسِ پردہ کچھ ایسے عوامل متحرک ہو سکتے ہیں جو صورتحال کو بہتری کی طرف لے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ “گرینڈ ڈیل” کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم ٹیلی فون پر مذاکرات کی یہ حالیہ تجویز سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔ تہران کی جانب سے فی الحال ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔