کوئٹہ، 27 مئی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عید الضحٰی کی نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد سانحہ چمن پھاٹک کے متاثرین کے گھروں کا دورہ کیا
اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے ان سے دلی ہمدردی اور اظہار یکجہتی کیا اس موقع پر صوبائی وزراء، منتخب عوامی نمائندے اور اعلیٰ حکام بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور بلوچستان کے عوام اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ان افسوسناک واقعات میں شہید ہونے والے افراد پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ہم اپنے شہداء کے مقدس خون کے مقروض ہیں جنہوں نے عوام اور وطن کی سلامتی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا
میر سرفراز بگٹی نے یقین دہانی کرائی کہ سانحہ چمن پھاٹک کے متاثرین کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے گا اور حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی اور بدامنی کے متعدد واقعات کا سامنا کیا ہے
2002 کے بعد صوبے کے حالات خراب ہوئے اور جسٹس نواز مری کے قتل سمیت مختلف سانحات نے بلوچستان کے امن و استحکام کو متاثر کیا،
تاہم تمام تر حالات کے باوجود بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ حوصلے، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج پاکستان اور بلوچستان ترقی، استحکام اور بہتری کی جانب گامزن ہیں اور عالمی سطح پر بھی پاکستان کا کردار مزید مضبوط اور مؤثر انداز میں سامنے آرہا ہے
عالمی معاملات، خصوصاً ایران تنازعہ کے حل میں پاکستان ذمہ دارانہ اور کلیدی کردار ادا کررہا ہے جبکہ سیاسی و عسکری قیادت کی فہم و فراست نے پاکستان کا نام عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں دشمن قوتیں خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسی “را” اور اس کی پراکسیز پاکستان اور بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے سرگرم ہوجاتی ہیں
تاہم بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز جاری ہیں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 10 سے 12 دہشت گرد مارے گئے
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں کبھی طاقت کا اندھا استعمال نہیں کیا گیا جہاں ایسی کارروائیاں ہوتی ہیں وہاں پورے پورے علاقے خالی کرائے جاتے ہیں بلوچستان میں کسی جگہ ایسا نہیں ہوا
انہوں نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں سے نمٹنے کی مکمل استعداد اور پیشہ ورانہ صلاحیت رکھتی ہیں،
تاہم انٹیلیجنس ڈریون وار اور گرے زونز میں کام کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے جہاں دوست اور دشمن کے درمیان فرق کرنا آسان نہیں رہتا
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دشمن واضح ہو تو کارروائی نسبتاً آسان ہوتی ہے اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے دانت کھٹے کئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد بعض عناصر ریاست پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلاتے ہیں جبکہ حکومتی اخراجات پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے بعض افراد بھی ریاست مخالف بیانیے کو تقویت دینے کی کوششوں میں مصروف پائے گئے ہیں
انہوں نے کہا کہ عوام کی صفوں میں بیٹھ کر تشدد، نفرت اور انتشار کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر کالعدم تنظیموں سے زیادہ خطرناک ہیں
کیونکہ ایسے عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت، عوام اور سیکیورٹی ادارے مل کر دہشت گردی کے خاتمے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔