محمود خان اچکزئی نے پشتونوں اور بلوچوں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ـسلیم کھوسہ

کوئٹہ (نیوز ڈیسک): گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم احمد کھوسہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چمن پھاٹک پر ٹرین پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے
اور عزم ظاہر کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اور عوامی تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
​پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے،
تاہم تمام مسائل کا واحد حل قانون سازی اور آئینی دائرہ کار میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے کیونکہ ہم ایک انصاف پسند معاشرے کے خواہاں ہیں۔
​محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک بڑی سیاسی شخصیت ہیں
جنہوں نے قومی اسمبلی میں حلف بھی اٹھا رکھا ہے، لیکن انہوں نے چمن جلسے میں متنازعہ باتیں کیں اور ذاتی لشکر بنانے کا ذکر کیا۔ ا
نہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چمن جلسے کے ذریعے پشتون اور بلوچ عوام میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی،
جبکہ بلوچ قوم پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور یہاں ہر کوئی قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کر رہا ہے۔
​صوبائی حکومت اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت مخلوط حکومت قائم ہے
اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہمیشہ تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے بجٹ میں ہماری پوری کوشش ہے کہ فنڈز اور وسائل تمام اضلاع میں برابر تقسیم کیے جائیں۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں سیکورٹی کی صورتحال سنجیدہ ہے، اس کے باوجود ہر ضلع میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور ماضی کی نسبت اب بہت بہتر ڈویلپمنٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔
​ایک سوال کے جواب میں میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان پر ماضی میں کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں
لیکن موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
صوبے میں حکومت کی تبدیلی یا ‘ڈھائی ڈھائی سال کے فارمولے’ کے حوالے سے انہوں نے صاف کہا کہ یہاں ایسے کسی فارمولے کی کوئی اہمیت نہیں،
اور اگر کوئی ایسا معاملہ زیر غور بھی آ جائے تو اس کا حتمی فیصلہ وفاق نے کرنا ہے۔
انہوں نے دہرایا کہ اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ صرف اور صرف بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام پر مرکوز ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں