کوئٹہ (خبردار نیوز)ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کا احتجاج اور سرکاری اسپتالوں میں بائیکاٹ 14ویں روز بھی جاری رہا۔
وائی ڈی اے کے مطابق ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام طبی خدمات کا بائیکاٹ برقرار ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے واقعے کے بعد خصوصاً خواتین ڈاکٹرز خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہیں، اس لیے حکومت فوری طور پر سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے اور سیکرٹری صحت سمیت سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
وائی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ حکومت نے ذمہ دار اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ڈاکٹروں کو معطل کیا، جو ناانصافی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مریضوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ وارڈز اور بعض نجی اسپتالوں میں مفت او پی ڈی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سول اسپتال کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر سے اظہار یکجہتی کے لیے آٹھویں روز بھی احتجاجی کیمپ قائم ہے۔
وائی ڈی اے نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک سرکاری اسپتالوں میں بائیکاٹ جاری رہے گا۔
ادھر بائیکاٹ کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے
کوئٹہ: ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج 14ویں روز بھی جاری

Leave a Reply