امام الحق انگلینڈ سے لاہور پہنچ گئے، انجری پر پی سی بی کی اعلیٰ سطح تحقیقات کا فیصلہ

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹر امام الحق انگلینڈ سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں
اور لاہور پہنچنے کے بعد اب ان کی انجری کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تحقیقات کا سامنا ہے۔
امام الحق انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز فیلڈنگ کے دوران بائیں پنڈلی کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے۔
پی سی بی کے مطابق اسکین میں امام الحق کی بائیں پنڈلی میں لو گریڈ اسٹرین کی تصدیق ہوئی تھی اور وہ ٹیم کی میڈیکل ٹیم کی نگرانی میں زیرِ علاج تھے۔
انجری کے باعث امام الحق لارڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بیٹنگ کے لیے نہیں آئے،
جبکہ دوسری اننگز میں بھی وہ پاکستان کی جانب سے بیٹنگ نہ کرسکے۔
پاکستان کو لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انگلینڈ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ـ
لارڈز ٹیسٹ کے بعد پی سی بی نے امام الحق سمیت بعض کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
تیسرے ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں اور امام الحق انجری کے باعث اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔
دوسری جانب امام الحق کی انجری کے معاملے نے ایک نیا تنازع بھی کھڑا کردیا ہے۔
پی سی بی نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران پیش آنے والی انجری کا مکمل جائزہ لینے اور اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
ماضی میں بھی امام الحق کی انجری سے متعلق ایک انکوائری رپورٹ سامنے آچکی ہے،
جس کے باعث موجودہ معاملے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تاہم موجودہ انجری کے بارے میں پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل رپورٹ میں پنڈلی کی لو گریڈ اسٹرین کی تصدیق کی گئی تھی۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
تیسرے ٹیسٹ سے قبل ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو تبدیل کرکے مائیک ہیسن کو ذمہ داری دی گئی ہے،
جبکہ امام الحق، محمد رضوان اور سلمان علی آغا سمیت سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
تیسرے ٹیسٹ کا آغاز 9 ستمبر کو ایجبسٹن، برمنگھم میں ہوگا۔
“پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹر امام الحق انگلینڈ سے لاہور پہنچ گئے ہیں۔
لارڈز ٹیسٹ کے دوران پنڈلی کی انجری کا شکار ہونے والے امام الحق کو تیسرے ٹیسٹ کے اسکواڈ سے باہر کردیا گیا ہے،
جبکہ پی سی بی نے ان کی انجری کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا بھی فیصلہ کیا ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں