کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس، اراکین کا شدید احتجاج، دو اہم بل منظور

اکوئٹہ (خبردار خصوصی رپورٹ):بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 25 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔
اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی کی جانب سے پاسپورٹ بلاک کرنے، اسماء جتک کیس اور محکمہ جنگلات میں بھرتیوں سے متعلق شدید احتجاج اور گرم ماحول دیکھنے میں آیا،
جبکہ ایوان نے قانون سازی کا عمل مکمل کرتے ہوئے دو اہم ترمیمی مسوداتِ قانون کی منظوری بھی دی۔
رکن اسمبلی زاہد ریکی نے کہا کہ مجھے ​ایئرپورٹ پر روکا گیا، دہشت گرد قرار دیکر استحقاق مجروح کیا گیا:
​اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی زابد ریکی نے انکشاف کیا کہ عمرہ و مدینہ کے سفر کے لیے ایئرپورٹ پہنچنے پر ایف آئی اے حکام نے انہیں روک کر “دہشت گرد” قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ معلومات پر معلوم ہوا کہ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم حمزہ شفقات نے ان کا پاسپورٹ بلاک کر کے نام ECL اور PCL میں شامل کیا ہے۔ زابد ریکی نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
​”واشک جاتے ہیں تو دہشت گرد پیچھے ہوتے ہیں اور کوئٹہ آتے ہیں تو ہمیں دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔
میرا کس کالعدم تنظیم سے تعلق ہے بتایا جائے۔ اگر ثبوت ہیں تو سامنے لائے جائیں اور ایڈیشنل سیکرٹری ہوم کو طلب کر کے جواب مانگا جائے۔”
​اسماء جتک کیس: اصل قاتل نواب اور سردار ہوں، پھر بھی نہیں چھوڑیں گے
​اجلاس میں مولانا ہدایت الرحمن اور صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے اسماء جتک کے اغوا اور ان کے والد و ماموں کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔
​مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اسماء جتک کے والد کے قاتل ابھی بھی محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کو پیشکش کی کہ وہ بتاسکتے ہیں کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کہاں چھاپہ مارنا چاہیے۔
​صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ ظالم سرداروں اور نوابوں کی سرپرستی کی وجہ سے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتل چاہے نواب ہو یا سردار، اصل مجرموں کو فوری گرفتار کیا جائے۔
​قانون سازی: دو مسوداتِ قانون منظور، ایک قائمہ کمیٹی کے سپرد
​ایوان میں صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے وزیر داخلہ کی جانب سے دو اہم قانون پیش کیے جنہیں قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کے مطابق منظور کر لیا گیا:
​کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 (بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون)
​بلوچستان سیٹیزن فیسیلیٹیشن اینڈ گورننس مسودہ قانون 2026
​اس کے علاوہ بلوچستان کیڈٹ کالجز (ترمیمی مسودہ قانون 2026) بھی اسمبلی میں پیش کیا گیا،
جسے مزید غور و خوص کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
​محکمہ جنگلات میں بھرتیوں کی بدعنوانی کا معمہ
​اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے محکمہ جنگلات کی آسامیاں منسوخ کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ معاملے کو انڈر ٹیبل نمٹایا جا رہا ہے اور اب تک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔
اس پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے وضاحت کی کہ بیرونِ ملک دورے کے باعث کمیٹی میں تاخیر ہوئی، اگلے دو دنوں میں کمیٹی بن جائے گی۔
جبکہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایوان کو بتایا کہ حکومت اپنا کام کر چکی ہے، تین متعلقہ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
​لینگویجز اکیڈیمیز کے فنڈز کا التوا
​سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر نشاندہی کی کہ صوبے کی زبان و ادب سے متعلق اکیڈمیز کے فنڈز بند پڑے ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ سے اپیل کی کہ روڈ اور نالیاں بنتی رہیں گی، لیکن ثقافت اور ادب کی بقا کے لیے اکیڈمیز کے فنڈز فوری جاری کیے جائیں۔
​اجلاس کی التوا:
کارروائی مکمل ہونے کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 9 اکتوبر (جمعہ) سہ پہر 3:00 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں