تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران میں جاری حالیہ سیاسی ہلچل اور اہم سفارتی پیشرفت کے دوران، ملک کے معروف سیاست دان اور سابق صدارتی امیدوار محمد باقر قالیباف ایک بار پھر بھاری اکثریت سے ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، ایرانی مجلس کے نئے سال کے آغاز پر ہونے والے اس اہم ترین انتخاب میں ارکانِ پارلیمنٹ نے محمد باقر قالیباف کی قیادت پر ایک بار پھر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
وہ سخت سیاسی مقابلے اور مختلف قدامت پسند و اعتدال پسند دھڑوں کے دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
محمد باقر قالیباف کا دوبارہ انتخاب ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کو متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
مبصرین کے مطابق، ان کا دوبارہ اسپیکر بننا درج ذیل وجوہات کی بنا پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے:
قالیباف حالیہ عرصے میں چینی صدر کے لیے ایران کے خصوصی ایلچی اور اہم مذاکرات کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ کے ساتھ جاری حساس ترین امن مذاکرات اور علاقائی استحکام کے تناظر میں ان کی اس عہدے پر موجودگی کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک مضبوط پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
انکے انتخاب سے پارلیمنٹ پر ان کی گرفت سے حکومت اور مقننہ کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
ماہرینِ کا کہنا ہے کہ قالیباف کے دوبارہ انتخاب سے ایرانی سیاست میں قدامت پسند اور عملی پسند (Pragmatic) دھڑے کو مزید تقویت ملے گی، جس کا براہِ راست اثر ایران کی خارجہ پالیسی اور بالخصوص خطے میں جاری سیکیورٹی صورتحال پر پڑے گا۔