کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) بلوچستان کے سرکاری ملازمین کی تنظیم بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر صوبے بھر میں سرکاری دفاتر میں تالہ بندی کا آج ساتواں روز ہے۔ اس احتجاج کے باعث
ختلف محکموں میں دفتری امور معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سرکاری دفاتر، اسکول، اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ملازمین کا مطالبہ ہے کہ مہنگائی کے تناظر میں تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، خاص طور پر ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) میں 30 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔
ملازمین کا مؤقف
سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جو مہنگائی کے تناسب سے ناکافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج
جاری رہے گا۔
“ہم صرف اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ جب مہنگائی 30 سے 40 فیصد بڑھ چکی ہے تو تنخواہ میں صرف 10 فیصد اضافہ ناانصافی ہے۔” — ملازمین کا بیان
حکومت کا مؤقف
حکومتی ذرائع کے مطابق، مالی وسائل محدود ہیں ور ملازمین کا مظالبہ تسلیم کرنے سے حکومت کے وسائل پر 40 ارب روپے کا اضافی بوجھ بڑے گا
تاہم ملازمین سے مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے۔ صوبائی حکومت نے ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج ختم کریں اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
عوامی مشکلات
اسرکاری کاغذی کارروائیوں میں تاخیر
اسکولوں میں تعلیمی عمل کی معطلی
ہسپتالوں اور بلدیاتی دفاتر میں سست روی
کا سامنا ہے، جس پر شہری حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔