کوئٹہ21 اپریل:_بلوچستان حکومت نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور جدیدیت کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے صوبے میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل اسکول سینسز اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے
ڈیجیٹل اسکول سینسز کے تحت صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کا جامع ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیا جائے گا
جس میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، عمارتوں کی حالت، کمروں کی تعداد، طلباء کے اندراج اور اساتذہ کی تفصیلات سمیت تمام اہم معلومات کو یکجا کیا جائے گا اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی شعبے کی درست منصوبہ بندی میں مدد ملے گی بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا
اسی طرح جدید اٹینڈنس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے انتظامی افسران کی حاضری اور کارکردگی کی آن لائن نگرانی ممکن ہو سکے گی جس سے شفافیت میں اضافہ اور تعلیمی نظام کی مؤثر مانیٹرنگ کو فروغ ملے گا۔
اس نظام کے نفاذ سے گورننس کے معیار کو بہتر بنانے اور ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط کرنے میں بھی مدد ملے گی
یہ جدید ڈیجیٹل سسٹمز پرفارمنس مینجمنٹ سیل کی ٹیم کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہیں جنہوں نے اس وژن کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا
تقریب کے دوران ایک منفرد اور حوصلہ افزا اقدام کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے افتتاح خود کرنے کے بجائے داخلہ مہم میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اضلاع کے افسران کو اس اعزاز کا مستحق قرار دیا
انہوں نے ضلع لسبیلہ کی ڈپٹی کمشنر حمیرہ بلوچ، جنہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ جنہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی ان کو اسٹیج پر مدعو کر کے ان کے ہاتھوں ان منصوبوں کا افتتاح کروایا
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت میرٹ، کارکردگی اور شفافیت کے اصولوں پر کاربند ہے اور ایسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے
بلکہ پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ بلوچستان کے بچوں کو معیاری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جا سکے۔