تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے حتمی معاہدے کی تردید اور اسے قیاس آرائیاں قرار دیے جانے کے باوجود، ایرانی میڈیا نے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ تاریخی معاہدے کے 14 اہم نکات جاری کر دیے ہیں۔
ان نکات میں مستقل جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے، ایرانی فنڈز کی واگزاری اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا جیسے انتہائی حساس اور غیر معمولی مطالبات شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
1۔ جنگ بندی، انخلا اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
مستقل جنگ بندی: لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی عمل میں لائی جائے گی۔
امریکی فوج کا انخلا: معاہدے پر دستخط کے 30 دن کے اندر امریکی فوج ایرانی سرحدوں کے اطراف سے مکمل انخلا کرے گی۔
بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز: 30 دن کے اندر ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اس کی سیکیورٹی مکمل طور پر ایران کے سپرد ہو گی۔
2۔ معاشی بحالی، منجمد اثاثے اور پابندیوں کا خاتمہ
300 ارب ڈالر کا پلان: امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کا خطیر معاشی پلان فراہم کریں گے۔
فنڈز کی واگزاری: ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے، جن میں سے 12 ارب ڈالر حتمی مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ایران کو ملیں گے۔
پابندیوں کی معطلی: ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر امریکی پابندیاں فوری معطل ہوں گی، جبکہ امریکہ اور سلامتی کونسل کی تمام بنیادی و ثانوی پابندیاں مستقل ختم کی جائیں گی۔
3۔ جوہری و میزائل پروگرام اور سفارتی ضمانتیں
میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروپ: ایران کا میزائل پروگرام اور علاقائی مزاحمتی گروپوں کی حمایت کا معاملہ مذاکراتی ایجنڈے سے مستقل طور پر خارج رہے گا۔
جوہری عزم: ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے این پی ٹی (NPT) معاہدے پر سختی سے کاربند رہے گا۔
عدم مداخلت: امریکہ ایران کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور اس کی قومی خودمختاری کا مکمل احترام کرنے کا پابند ہوگا۔
4۔ حتمی مذاکرات کا ٹائم فریم اور مانیٹرنگ
60 دن کی مہلت: حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت مقرر ہوگا، اور اس دوران امریکہ خطے میں مزید فوج نہیں بھیجے گا اور نہ ہی ایران پر کوئی نئی پابندی عائد کرے گا۔
مشترکہ نگرانی: معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک “مشترکہ مانیٹرنگ میکانزم” قائم کیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حتمی معاہدے کی باقاعدہ توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کرے گی۔
مبصرین کی رائے: ایرانی میڈیا کی جانب سے لیک ہونے والے یہ نکات اگرچہ انتہائی جرات مندانہ ہیں، تاہم ایرانی دفترِ خارجہ کے حالیہ بیان کے تناظر میں یہ واضح ہے کہ امریکی حکام کے بار بار بدلتے مؤقف کے باعث ابھی ان نکات پر باقاعدہ حتمی دستخط ہونا باقی ہیں۔
اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور معیشت میں اس صدی کی سب سے بڑی تبدیلی ثابت ہوگا۔