Daily Khabardar
July 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان کی 142 ہائی رسک یونین کونسلوں میں انسدادِ پولیو مہم پانچویں روز بھی جاری، 7 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدفسانحہ زیارت کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتالامریکہ کے ایران پر مسلسل چھٹی رات شدید حملے، کویت میں دھماکے، بحری ناکہ بندی سختپی ایچ ای سبی کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز طلبفیفا ورلڈ کپ: میسی نے ارجنٹائن پر مبینہ جانبداری کے الزامات مسترد کر دیےزیارت: دہشت گردوں کے ہاتھو ں شہید (ر ) حوالدار صادق پانیزئی کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد کی شرکتسعودی عرب پر حملے خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں، پاکستان برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے: شہباز شریفکیچ: محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹینڈر جاریکمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے کامیاب مذاکرات کے بعد ینگ ڈاکٹرز کا39دنوں سے جاری ہڑتال موخروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ہنہ کے علاقے کلی ببری میں گورنمنٹ گرلز اسکول کے قیام کا اعلانبلوچستان کی 142 ہائی رسک یونین کونسلوں میں انسدادِ پولیو مہم پانچویں روز بھی جاری، 7 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدفسانحہ زیارت کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتالامریکہ کے ایران پر مسلسل چھٹی رات شدید حملے، کویت میں دھماکے، بحری ناکہ بندی سختپی ایچ ای سبی کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز طلبفیفا ورلڈ کپ: میسی نے ارجنٹائن پر مبینہ جانبداری کے الزامات مسترد کر دیےزیارت: دہشت گردوں کے ہاتھو ں شہید (ر ) حوالدار صادق پانیزئی کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد کی شرکتسعودی عرب پر حملے خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں، پاکستان برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے: شہباز شریفکیچ: محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹینڈر جاریکمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے کامیاب مذاکرات کے بعد ینگ ڈاکٹرز کا39دنوں سے جاری ہڑتال موخروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ہنہ کے علاقے کلی ببری میں گورنمنٹ گرلز اسکول کے قیام کا اعلان

بلوچستان یونیورسٹی کامالی بحران اساتذہ تنخواہوں کے لئے سراپا احتجاج

بلوچستان یونیورسٹی کامالی بحران اساتذہ تنخواہوں کے لئے سراپا احتجاج

بلوچستان یونیورسٹی کامالی بحران اساتذہ تنخواہوں کے لئے سراپا احتجاج

کوئٹہ( خبردار نیوز ) اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے زیراہتمام جامعہ بلوچستان و ریسرچ سینٹرز کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کے مستقل حل کےلئے 16 ستمبر

بروز سوموار سے جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام نےعلامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے شروع کیا۔

بھوک ہڑتال میں پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، پروفیسر فرید خان اچکزئی، میڈم زارا ملغانی، پروفیسر ہاشم جان کھوسو اور مسعود مندوخیل پروفیسر ارسلان شاہ، ڈاکٹر سعید احمد ایسوٹ، ڈاکٹر

کامران تاج اور پروفیسر محمد سہیل ترین شریک ھوئے۔

اساتذہ کرام نے بھوک ہڑتال تنخواہوں اور پنشنز کی عدم ادائیگی اور مالی بحران کے مستقل حل کےلئے کیا۔ بھوک ہڑتال کرنے والے اساتذہ کرام نے کہاکہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ جامعہ

بلوچستان کے اساتذہ کرام کو تنخواہوں و پینشنز سے محروم رکھا گیا ہیں،

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کو سخت مالی و انتظامی بحران میں دھکیلا کیونکہ وفاقی حکومت نے نے اپنے 19 ہزار کے

سالانہ بجٹ میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے لئے صرف 65 ارب روپے مختص کئے

اور اس 65 ارب روپے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد نے اپنی مراعات کے لئے 7 ارب روپے رکھے اور اسکےعلاوہ 4 ارب روپے کی خطیر رقم سے ایچ ای سی کے نئے سیکرٹریٹ

کی بنیاد رکھا جبکہ بلوچستان کی تمام یونیورسٹیوں کے لئے صرف تین ارب روپے مختص کئے۔

بلوچستان یونیورسٹی کامالی بحران اساتذہ تنخواہوں کے لئے سراپا احتجاج
بلوچستان یونیورسٹی کامالی بحران اساتذہ تنخواہوں کے لئے سراپا احتجاج

اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے اپنے 850 ارب روپے کی سالانہ بجٹ میں صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے لئے صرف 5 ارب روپے کی انتہائی قلیل رقم مختص کئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی و صوبائی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان اسکے ریسرچ سینٹرز سمیت دیگر جامعات کو درپیش سخت مالی بحران کو مستقل طور پر

حل کرنے کے لئے فوری طور پر اساتذہ کرام اور ملازمین کی مکمل تنخواہوں اور پنشنز کےلئے مکمل فنڈز جاری کرے ۔

بیان میں اعلان کیا کہ بروز بدھ 18 ستمبر کو بھی جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے اساتذہ کرام بھوک ہڑتال پر بھٹینگے۔ جامعہ بلوچستان و ریسرچ سینٹرز کے اساتذہ کرام سے اپیل کیا

کہ وہ اپنے جائز حقوق کے لئے اعلان شدہ احتجاجی کیمپ میں بھرپور انداز میں شرکت کری

شیئر کریں: WhatsApp

Admin Team

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *