تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی تازہ ترین کارروائی میں ایران کی ایک معروف اور بڑی دوا ساز کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے
میں تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں فوجی تناؤ عروج پر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نشانہ بنائی گئی کمپنی ایران میں اہم ادویات اور
طبی خام مال کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔
حملے کے نتیجے میں کمپنی کے پروڈکشن یونٹس اور گوداموں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے ملک میں جان بچانے والی ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق صنعتی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، تاہم جانی نقصان کے حوالے سے حتمی تفصیلات کا انتظار ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس حملے کو “انسانیت
سوز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طبی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا ۔
دوسری جانب طبی ماہرین اور عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوا ساز کمپنی پر حملے سے ایران کے شعبہ صحت پر دباؤ بڑھے گا۔ ایران پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے طبی
سامان کی درآمد میں مشکلات کا شکار ہے، اور اب مقامی سطح پر ادویات بنانے والی بڑی کمپنی کی تباہی سے عام شہریوں کے لیے علاج معالجہ مزید مشکل ہو جائے گا۔